چارٹ پیٹرن وہ شکلیں ہیں جو قیمت چارٹ پر بنتی ہیں اور آنے والی حرکت کی پیش گوئی کرتی ہیں۔ یہ ریورسل پیٹرن اور کنٹینیوایشن پیٹرن کی دو اقسام میں تقسیم ہوتے ہیں۔ ریورسل پیٹرن ٹرینڈ کے اختتام کی نشاندہی کرتے ہیں جبکہ کنٹینیوایشن پیٹرن موجودہ ٹرینڈ کے جاری رہنے کا امکان ظاہر کرتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پیٹرن کی تکمیل کا انتظار کیا جائے — پیٹرن ٹوٹنے سے پہلے داخل ہونا سب سے بڑی غلطی ہے۔
ہیڈ اینڈ شولڈرز (head and shoulders) سب سے مشہور ریورسل پیٹرن ہے جو ڈاؤن ٹرینڈ کے آغاز کی علامت ہے۔ اس میں تین چوٹیاں بنتی ہیں — درمیانی چوٹی (سر) سب سے اونچی ہوتی ہے اور اسے "نیک لائن" (neckline) نامی سپورٹ لائن جوڑتی ہے۔ جب قیمت نیک لائن کو توڑ کر بند ہو جائے تو پیٹرن مکمل ہوتا ہے۔ انورس ہیڈ اینڈ شولڈرز اس کا الٹ ہے اور اپ ٹرینڈ کے آغاز کی نشاندہی کرتا ہے۔
ڈبل ٹاپ (double top) اور ڈبل باٹم (double bottom) بھی ریورسل پیٹرن ہیں۔ ڈبل ٹاپ میں قیمت دو بار تقریباً ایک ہی اونچائی پر جا کر واپس آتی ہے — یہ نیچے جانے کا انتباہ ہے، جبکہ ڈبل باٹم میں قیمت دو بار ایک ہی نیچائی پر جا کر واپس آتی ہے — یہ اوپر جانے کا سگنل ہے۔ ان پیٹرنز کے درمیان بننے والا نیچا یا اونچا پوائنٹ "نیک لائن" ہوتا ہے اور اس کا ٹوٹنا پیٹرن کی تکمیل ہے۔
ٹرائی انگلز (triangles) کنٹینیوایشن پیٹرن ہیں۔ اپنے چڑھتے ہوئے ٹرائی اینگل (ascending) میں نیچے کی لکیر اوپر اٹھتی ہے اور قیمت عام طور پر اوپر کی طرف نکلتی ہے؛ نیچے اترتے ہوئے ٹرائی اینگل (descending) میں اوپر کی لکیر نیچے گرتی ہے اور قیمت عموماً نیچے نکلتی ہے؛ جبکہ سمیٹریکل ٹرائی اینگل (symmetrical) میں دونوں لکیریں آپس میں ملتی ہیں اور بریک آؤٹ کی سمت پہلے نہیں بتائی جا سکتی۔ فلیگز (flags) اور پیننٹس (pennants) مختصر توقف کے بعد ٹرینڈ کے جاری رہنے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
بریک آؤٹ کے اصول سب سے اہم ہیں: بریک آؤٹ حجم کے اضافے کے ساتھ ہونا چاہیے، کینڈل بریک کے بعد پیٹرن کی حد سے باہر بند ہونی چاہیے، اور بریک کے بعد قیمت کا ریٹیسٹ ہونا مثالی ہے۔ جھوٹے بریک آؤٹ (fakeout) سے بچنے کے لیے حجم اور بند کینڈل کی تصدیق ضروری ہے۔ بڑے ٹائم فریم پر بننے والے پیٹرن چھوٹے ٹائم فریم سے زیادہ قابلِ اعتبار ہوتے ہیں اور ان کے بعد کی حرکت بھی بڑی ہوتی ہے۔