حجم (volume) اس بات کی پیمائش ہے کہ ایک مخصوص مدت میں کتنے سکے خریدے اور بیچے گئے۔ قیمت حرکت کی سمت بتاتی ہے لیکن حجم بتاتا ہے کہ اس حرکت کے پیچھے کتنی طاقت ہے۔ کم حجم کے ساتھ حرکت کمزور ہوتی ہے اور ٹوٹ سکتی ہے، جبکہ زیادہ حجم کے ساتھ حرکت مضبوط ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کہا جاتا ہے "حجم سچائی بتاتا ہے" — بہت سے ٹریڈرز قیمت کے ساتھ حجم دیکھ کر ہی اپنا فیصلہ کرتے ہیں۔
حجم کی سب سے اہم تصدیق بریک آؤٹ پر ہوتی ہے۔ جب قیمت کسی سپورٹ، ریزسٹنس، ٹرینڈ لائن یا چارٹ پیٹرن کو توڑ کر نکلے تو حجم میں نمایاں اضافہ ہونا چاہیے۔ بریک آؤٹ کے ساتھ حجم کا بڑھنا اسے حقیقی ثابت کرتا ہے، جبکہ کم حجم کا بریک آؤٹ اکثر جھوٹا (fakeout) نکلتا ہے۔ اسی طرح اپ ٹرینڈ میں بڑھتی ہوئی قیمت کے ساتھ بڑھتا ہوا حجم تصدیق کرتا ہے کہ ٹرینڈ جاری رہے گی۔
حجم سپائیک (volume spike) اچانک بہت زیادہ حجم والی کینڈل ہوتی ہے۔ یہ عام طور پر اہم واقعات، نیوز یا بڑے خرید و فروخت کی نشاندہی کرتی ہے۔ سپائیک کے بعد قیمت اکثر ریورسل یا بریک آؤٹ کرتی ہے۔ ڈاؤن ٹرینڈ کے اختتام پر آنے والا بڑا حجم سپائیک "climax selling" کہلاتا ہے جو نیچے جانے کے اختتام کی علامت ہو سکتا ہے، اور اپ ٹرینڈ کے آخر میں سپائیک "climax buying" ہے۔
OBV (On-Balance Volume) ایک مقبول انڈیکیٹر ہے جو حجم کو کسی ایک لائن میں جمع کرتا ہے: اپ کینڈل کے حجم کو پچھلی OBV میں شامل کیا جاتا ہے اور ڈاؤن کینڈل کا حجم منہا کیا جاتا ہے۔ OBV کا بڑھنا خریداری کے دباؤ کی علامت ہے اور گرنا فروخت کے دباؤ کی۔ OBV اور قیمت کے درمیان ڈائیورجنس بھی اہم ہے — اگر قیمت نئی اونچائی بنائے لیکن OBV نہ بنائے تو یہ کمزوری کا انتباہ ہے۔
حجم ڈائیورجنس کا استعمال ریورسل کی پہچان میں بھی ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر جب قیمت نئی اونچائی بنائے لیکن حجم گھٹتا جائے تو یہ اپ ٹرینڈ کی کمزوری ہے، اور جب قیمت نیچے گرے لیکن حجم بڑھتا جائے تو یہ مضبوط فروخت کا دباؤ ہے۔ یاد رکھیں کہ قیمت بغیر حجم کے تصدیق کے کمزور ہوتی ہے۔ ہمیشہ چارٹ پیٹرن، بریک آؤٹ اور ریورسل سگنلز کو حجم کے ساتھ دیکھ کر ہی فیصلہ کریں۔