سبق ۷: فبوناچی ریٹریسمنٹ

فبوناچی ریٹریسمنٹ ایک طاقتور ٹول ہے جو ممکنہ سپورٹ اور ریزسٹنس کی سطحوں کی پیش گوئی کرتا ہے۔ یہ فبوناچی ترتیب کے تناسب پر مبنی ہے — اہم ترین سطحیں 38.2%، 50% اور 61.8% ہیں۔ 61.8% کو "گولڈن ریشو" کہا جاتا ہے اور یہ سب سے اہم سطح ہے۔ اس کے علاوہ 23.6% اور 78.6% بھی استعمال کی جاتی ہیں۔ 50% فبوناچی ترتیب کا حصہ نہیں لیکن مارکیٹ میں یہ بہت عام سطح ہے۔

فبوناچی ریٹریسمنٹ کھینچنے کا طریقہ یہ ہے کہ اپ ٹرینڈ میں ٹول کو نیچے سے اوپر یعنی اہم نیچائی سے اہم اونچائی تک کھینچیں، اور ڈاؤن ٹرینڈ میں اوپر سے نیچے یعنی اونچائی سے نیچائی تک۔ اس کے بعد یہ ٹول خود بخود فبوناچی سطحیں دکھاتا ہے۔ ان سطحوں پر قیمت رک کر پلٹ سکتی ہے یا کم از کم سست پڑ سکتی ہے۔ کریپٹو مارکیٹ میں 61.8% اور 78.6% کی سطحوں پر ردِ عمل زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔

فبوناچی ریٹریسمنٹ کا بنیادی استعمال پل بیک (pullback) پر داخل ہونا ہے۔ اپ ٹرینڈ میں جب قیمت واپس لوٹتی ہے تو فبوناچی سطحوں پر خریدنے کا موقع ملتا ہے۔ سب سے عام حکمت 61.8% یا 50% پر لمیٹ آرڈر لگانا ہے، جہاں دیگر انڈیکیٹرز بھی تصدیق کر رہے ہوں۔ سٹاپ لاس اگلی فبوناچی سطح سے نیچے رکھا جاتا ہے۔

فبوناچی کی اصل طاقت اس وقت سامنے آتی ہے جب اسے دوسرے ٹولز کے ساتھ استعمال کیا جائے — جسے "کنفلونس" (confluence) کہتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر فبوناچی کی 61.8% سطح کسی پرانی سپورٹ زون سے مل رہی ہو اور وہاں 200 EMA بھی آ رہی ہو تو یہ بہت مضبوط سطح ہے۔ کنفلونس جتنا زیادہ ہوگا، سطح اتنی ہی مضبوط ہوگی۔

فبوناچی ایکسٹینشن (extension) بھی ایک مفید ٹول ہے جو منزل (target) کا تعین کرنے میں مدد دیتا ہے۔ جب قیمت فبوناچی ریٹریسمنٹ سے پلٹ کر ٹرینڈ کی سمت جاتی ہے تو ایکسٹینشن سطحیں (127.2%، 161.8%، 261.8%) ممکنہ ٹارگٹ ہوتی ہیں۔ ایکسٹینشن کھینچنے کا طریقہ وہی ہے، لیکن اس میں سطحیں سوئنگ کے اختتام سے آگے دکھائی دیتی ہیں۔ فبوناچی کو کبھی بھی اکیلے استعمال نہیں کرنا چاہیے — یہ دوسرے تجزیوں کی تصدیق کے لیے بہترین ہے۔

اہم نکات

ہوم ورک

⬅ TradeEd پر واپس جائیں