اسپاٹ مارکیٹ میں آپ سکہ خرید کر اپنے پاس رکھتے ہیں — آپ کا منافع اس وقت ہوتا ہے جب قیمت بڑھے۔ فیوچرز مارکیٹ میں آپ کسی سکے کا معاہدہ کرتے ہیں بغیر سکہ رکھے، اور آپ قیمت بڑھنے (لانگ) اور گرنے (شارٹ) دونوں پر منافع کما سکتے ہیں۔ فیوچرز میں مارجن کی ضرورت ہوتی ہے، یعنی پوزیشن کھولنے کے لیے صرف ایک چھوٹا سا حصہ جمع کرانا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فیوچرز میں لیوریج اور خطرہ اسپاٹ سے کہیں زیادہ ہوتا ہے، لیکن یہی اسے طاقتور بھی بناتا ہے۔
لانگ پوزیشن کا مطلب ہے کہ آپ کو امید ہے قیمت بڑھے گی، شارٹ پوزیشن کا مطلب ہے کہ آپ کو امید ہے قیمت گرے گی۔ فیوچرز دو اقسام کے ہوتے ہیں: کوارٹرلی فیوچرز اور پرپیچوئل فیوچرز۔ کوارٹرلی فیوچرز کی ایک مخصوص تاریخ ہوتی ہے جس دن معاہدہ ختم ہو جاتا ہے اور اس کی قیمت اسپاٹ سے ہٹ سکتی ہے۔ پرپیچوئل فیوچرز کی کوئی میعاد نہیں ہوتی — یہ ہمیشہ چلتے رہتے ہیں اور ان کی قیمت عام طور پر اسپاٹ کے بہت قریب رہتی ہے۔ زیادہ تر کریپٹو ٹریڈرز پرپیچوئل استعمال کرتے ہیں کیونکہ وہ زیادہ آسان اور لیکوئڈ ہوتے ہیں۔
کنٹریکٹ سائز سمجھیں: ہر فیوچرز معاہدے کا ایک سائز ہوتا ہے، مثلاً ایک BTC فیوچرز معاہدہ ایک بٹ کوائن کے برابر۔ لیکن آپ کسی بھی چھوٹی مقدار میں ٹریڈ کر سکتے ہیں، جیسے ۰.۰۱ BTC۔ مارجن موڈز وہی ہیں جو پچھلے سبق میں تھے — آئسولیٹڈ (ہر پوزیشن الگ) اور کراس (پورا اکاؤنٹ)۔ اس کے علاوہ فیوچرز میں دو اہم اخراجات ہیں: ٹریڈنگ فیسیں (ہر کھولنے اور بند کرنے پر) اور فنڈنگ ریٹ (جو پرپیچوئل کنٹریکٹ میں وقتاً فوقتاً وصول یا ادا ہوتا ہے)۔ یہ اخراجات چھوٹے لگتے ہیں مگر بار بار ٹریڈنگ میں بڑے بن جاتے ہیں۔
منافع کا حساب اس طرح لگتا ہے: منافع = (ایگزٹ قیمت − انٹری قیمت) × پوزیشن سائز۔ مثال: آپ ۲۰۰ ڈالر میں ۱ سکہ خریدتے ہیں اور ۲۱۰ پر بیچ دیتے ہیں تو منافع = (۲۱۰ − ۲۰۰) × ۱ = ۱۰ ڈالر۔ اگر آپ لیوریج ۱۰x استعمال کرتے ہیں تو ۱۰۰ ڈالر کے مارجن پر آپ ۱۰۰۰ ڈالر کی پوزیشن کھولتے ہیں، اور ۵٪ حرکت = ۵۰ ڈالر منافع یا نقصان۔ یاد رکھیں کہ فیوچرز میں آپ فیسیں، فنڈنگ اور ممکنہ سلیپیج بھی ادا کرتے ہیں — اس لیے منافع کا حساب کرتے وقت ان سب کو شامل کریں۔
ابتدائی تاجروں کے لیے فیوچرز کے قواعد: پہلا، پہلے ڈیمو اکاؤنٹ پر کم از کم ایک مہینہ مشق کریں۔ دوسرا، ۲x سے ۵x سے زیادہ لیوریج استعمال نہ کریں۔ تیسرا، ہمیشہ اسٹاپ لاس لگائیں۔ چوتھا، اپنے اکاؤنٹ کا ۱-۲ فیصد سے زیادہ ایک ٹریڈ میں خطرے میں نہ ڈالیں۔ پانچواں، فیسیں اور فنڈنگ پہلے سمجھیں۔ چھٹا، صرف اس وقت لانگ یا شارٹ کریں جب آپ کے پاس واضح سیٹ اپ ہو، ورنہ پیسے کو ہاتھ نہ لگائیں۔ فیوچرز ایک پیشہ ور کا کھیل ہے — بغیر تیاری کے داخل ہونا بربادی کی دعوت ہے۔
۱۔ اسپاٹ میں سکہ ملتا ہے، فیوچرز میں معاہدہ ہوتا ہے۔
۲۔ لانگ = قیمت بڑھنے پر منافع، شارٹ = قیمت گرنے پر منافع۔
۳۔ کوارٹرلی فیوچرز کی میعاد ہوتی ہے، پرپیچوئل کی نہیں۔
۴۔ کنٹریکٹ سائز، مارجن موڈ اور فیسیں سمجھیں۔
۵۔ منافع = (ایگزٹ − انٹری) × سائز، اخراجات شامل کریں۔
۶۔ ابتدائی تاجر کم لیوریج اور اسٹاپ لاس کے ساتھ ڈیمو پر مشق کریں۔
۱۔ ایک فرضی لانگ اور ایک فرضی شارٹ ٹریڈ کا منافع/نقصان حساب کریں۔
۲۔ کوارٹرلی اور پرپیچوئل فیوچرز کا فرق اپنی نوٹ بک میں لکھیں۔
۳۔ اپنے ایکسچینج پر فیوچرز فیسیں اور فنڈنگ ریٹ کہاں دیکھیں، اس کا طریقہ معلوم کریں۔