RSI (Relative Strength Index) ایک "اوسیلیٹر" انڈیکیٹر ہے جو 0 سے 100 کے درمیان حرکت کرتا ہے اور قیمت کی رفتار (momentum) کی پیمائش کرتا ہے۔ اس کی بنیادی سمجھ یہ ہے کہ RSI 70 سے اوپر جانا "اوور باؤٹ" (overbought) کہلاتا ہے یعنی قیمت بہت تیزی سے چڑھ چکی ہے اور نیچے آنے کا امکان ہے، جبکہ RSI کا 30 سے نیچے جانا "اوور سولڈ" (oversold) ہے یعنی قیمت بہت گری ہوئی ہے اور اوپر اچھل سکتی ہے۔
اوور باؤٹ کا مطلب یہ نہیں کہ فوراً بیچ دیں اور اوور سولڈ کا مطلب فوراً خریدنا نہیں — مضبوط ٹرینڈ میں RSI کافی عرصے تک 70 سے اوپر یا 30 سے نیچے رہ سکتا ہے۔ درست طریقہ یہ ہے کہ RSI کے 70 سے واپس نیچے آنے پر فروخت کا سگنل لیا جائے اور 30 سے اوپر لوٹنے پر خریدا جائے۔ اسے ٹرینڈ کے ساتھ ملا کر استعمال کرنا ہمیشہ بہتر ہوتا ہے۔
RSI کا سب سے طاقتور استعمال "ڈائیورجنس" (divergence) ہے۔ جب قیمت نئی اونچائی بنائے لیکن RSI کم اونچائی بنائے تو اسے "بئیرش ڈائیورجنس" کہتے ہیں جو کمزوری اور ممکنہ نیچے جانے کا انتباہ ہے۔ اس کے برعکس جب قیمت نئی نیچائی بنائے لیکن RSI زیادہ اونچی نیچائی بنائے تو "بلش ڈائیورجنس" ہوتا ہے جو اوپر جانے کا اشارہ ہے۔ ڈائیورجنس ٹرینڈ کی تبدیلی کے ابتدائی سگنل دیتا ہے۔
RSI کی 50 کی لکیر بھی اہم ہے — یہ مرکزی لکیر ہے۔ RSI کا 50 سے اوپر رہنا اپ ٹرینڈ کی تصدیق کرتا ہے اور 50 سے نیچے رہنا ڈاؤن ٹرینڈ کی۔ کچھ ٹریڈر 50 کی لکیر کو ہی خرید و فروخت کا فیصلہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، جبکہ 30 اور 70 کی حدود رینج مارکیٹ میں زیادہ کارآمد ہوتی ہیں۔
RSI کی ڈیفالٹ سیٹنگ 14 ادوار کی ہوتی ہے، لیکن اسے بدلا جا سکتا ہے — کم ادوار (جیسے 7) زیادہ حساس اور زیادہ ادوار (جیسے 21) کم حساس ہوتے ہیں۔ کریپٹو جیسی تیز مارکیٹ میں کچھ ٹریڈر 14 کے ساتھ 30/70 کی بجائے 40/60 یا 20/80 کی حدود استعمال کرتے ہیں۔ بہترین طریقہ یہ ہے کہ مختلف سیٹنگز آزما کر اپنی اسٹریٹجی کے مطابق RSI استعمال کریں۔