ٹرینڈ قیمت کی ایک سمت میں مسلسل حرکت کا نام ہے۔ جب مارکیٹ اوپر جا رہی ہو تو ہم کہتے ہیں کہ اپ ٹرینڈ ہے اور جب نیچے جا رہی ہو تو ڈاؤن ٹرینڈ۔ اپ ٹرینڈ کی پہچان "اُونچی اونچائیوں" (higher highs) اور "اُونچی نیچائیوں" (higher lows) سے ہوتی ہے، جبکہ ڈاؤن ٹرینڈ میں "نیچی نیچائیاں" (lower lows) اور "نیچی اونچائیاں" (lower highs) بنتی ہیں۔ جب تک یہ ترتیب قائم رہتی ہے، ٹرینڈ برقرار سمجھا جاتا ہے۔
ٹرینڈ لائن کھینچنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ اپ ٹرینڈ میں کم از کم دو نیچی اونچائیوں (یا اپ ٹرینڈ کی نیچائیوں) کو آپس میں ملایا جائے اور لائن کو تیسرے پوائنٹ سے ٹکرانے کی تصدیق کی جائے۔ بہترین طریقہ یہ ہے کہ لائن کندل کے باڈی سے نہیں بلکہ وِکس (wicks) سے کھینچی جائے، کیونکہ وِکس قیمت کا حقیقی انتہائی نقطہ ہوتا ہے۔ تین پوائنٹس سے گزرنے والی لائن ہی قابلِ اعتماد ہوتی ہے؛ دو پوائنٹس والی لائن آسانی سے ٹوٹ جاتی ہے۔
ٹرینڈ لائن کا سب سے اہم استعمال بریک آؤٹ کی پہچان ہے۔ جب قیمت ٹرینڈ لائن کو بند کینڈل کی صورت میں توڑ کر دوسری سمت چلی جائے تو یہ ٹرینڈ کے کمزور پڑنے کا اشارہ ہوتا ہے۔ لیکن ہر ٹوٹنا حقیقی نہیں ہوتا — کبھی قیمت لائن کو عبور کر کے واپس آ جاتی ہے جسے "فیک آؤٹ" کہتے ہیں۔ اس لیے بریک کی تصدیق حجم میں اضافے یا لائن کے نیچے بند ہونے سے کرنی چاہیے۔
چینل دو متوازی ٹرینڈ لائنوں سے بنتا ہے: اوپر والی لائن ریزسٹنس اور نیچے والی سپورٹ کا کام کرتی ہے۔ اپ ٹرینڈ چینل میں قیمت اوپر والی لائن تک پہنچ کر واپس لوٹتی ہے اور نیچے والی لائن سے اوپر اچھلتی ہے۔ چینل ٹریڈنگ کا اصول سادہ ہے: نیچے والی لائن سے خریدو اور اوپر والی لائن پر بیچو، جبکہ سٹاپ لاس چینل کے مخالف سمت تھوڑا دور رکھو۔
جب قیمت چینل کی ایک دیوار کو مضبوطی سے توڑ دے تو یہ بریک آؤٹ ہوتا ہے اور قیمت عموماً بریک کی سمت میں تیز حرکت کرتی ہے۔ چینل کا جھکاؤ بھی اہم ہے — ہموار چینل (رینج) میں اوپر نیچے کی ٹریڈنگ کی جاتی ہے جبکہ جھکاؤ والے چینل میں ٹرینڈ کی سمت ہی پہلی ترجیح ہوتی ہے۔ ٹرینڈ لائنز اور چینلز دونوں کو بڑے ٹائم فریم پر کھینچنا چاہیے کیونکہ وہاں کی لائنیں چھوٹے ٹائم فریم سے زیادہ مضبوط ہوتی ہیں۔